Surah Fussilat Ayat 11 (41:11)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًاؕ-قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآىٕعِیْنَ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر اس نے آسمان کی طرف قصد فرمایا اور آسمان دھواں تھا تواللہ نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں خوشی یا ناخوشی سے آجاؤ۔دونوں نے عرض کی: ہم خوشی کے ساتھ حاضر ہوئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے۔
Tafseer (Urdu)
{ثم استوى الى السمآء: پھر اس نے آسمان کی طرف قصد فرمایا۔} اس ایت میں تین چیزیں بیان کی گئی ہیں (1)…زمین کی تخلیق کے بعد اللہ تعالی نے اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق آسمان کو پیدا کرنے کی طرف قصد فرمایا۔ ایت کے اس حصے سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ پہلے زمین اور اس پر موجود دیگرچیزوں کی تخلیق ہوئی اور اس کے بعد اسمانوں کو پیدا کیا گیا جبکہ سورہ نازعات کی ایت نمبر27تا32میں یہ مذکور ہے کہ پہلے اسمانوں کو پیدا کیا گیا اس کے بعد زمین کو پھیلایا گیا اور اس میں پہاڑ وغیرہ دیگر چیزیں پیدا کی گئیں ان دونوں سورتوں کی ایات میں بیان کی گئی چیزیں بظاہر ایک دوسرے کے مخالف نظر اتی ہیں اور ا س ظاہری اختلاف کو دور کرنے کے لئے مفسرین نے مختلف جوابات دئیے ہیں ان میں سے ایک واضح جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے پہلے دودن زمین کو گول دائرے کی صورت میں پیدا فرمایاپھر اس کے بعد اسمانوں کو پیدا فرمایاپھر اسمان کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو پھیلایا تو تمام چیزو ں کی تخلیق 6 دنوں میں ہوئی اور زمین کو پھیلانا اس کے بعد ہوا لہذا ان ایتوں میں کوئی اختلاف نہیں ۔( صاوی فصلت تحت الایۃ: ۱۲ ۵ / ۱۸۴۳) (2)…ایت میں دوسری بات یہ بیان کی گئی کہ اسمان دھواں تھا۔مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ دھواں پانی کا بخار تھا اور اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ زمین و اسمان کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالی کا عرش پانی پر تھاپھر اللہ تعالی نے پانی میں حرکت پیدا فرمائی (اور موجیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں ) تو اس سے جھاگ پیدا ہوئی اور اس جھاگ سے دھواں نکلا پھر جھاگ تو پانی کی سطح پر باقی رہی اور ا س سے خشکی پیدا کی گئی اوراس خشکی سے زمین کو بنایا گیا جبکہ دھواں بلند ہوا اور اس سے اسمانوں کو پیدا کیا گیا۔( جمل فصلت تحت الایۃ: ۱۲ ۷ / ۹) (3)…اللہ تعالی نے اسمان اور زمین دونوں سے فرمایا کہ تم خوشی یا ناخوشی سے اجاو۔دونوں نے عرض کی: ہم خوشی کے ساتھ حاضر ہوئے۔ اس کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :اس سے مراد یہ ہے کہ اے اسمان اور زمین !میں نے تم میں جو منافع اور مصالح پیدا فرمائے ہیں انہیں لے او اور میری مخلوق کے لئے انہیں ظاہر کر دو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :اللہ تعالی نے اسمان سے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے سورجچاند اور ستاروں کو طلوع کر دو اور اپنی ہواوں اور بادلوں کو جاری کر دو اور زمین سے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی نہروں کو رواں کر دو اور اپنے درختوں اور پھلوں کو نکال دو اور یہ کام خوشی سے کرو یا ناخوشی سے (تمہیں بہر حال ایسا کرنا ہے) اسمان اور زمین نے عرض کی:ہم خوشی سے ایسا کرتے ہیں ۔( تفسیر قرطبی فصلت تحت الایۃ: ۱۱ ۸ / ۲۴۹ الجزء الخامس عشر)