Surah Az Zukhruf Ayat 36 (43:36)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جو رحمٰن کے ذکر سے منہ پھیرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی رہتاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جسے رَ تُوند آئے رحمٰن کے ذکر سے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے۔
Tafseer (Urdu)
{و من یعش عن ذكر الرحمن: اور جو رحمن کے ذکر سے منہ پھیرے۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جو قران پاک سے اس طرح اندھا بن جائے کہ نہ اس کی ہدایتوں کو دیکھے اور نہ ان سے فائدہ اٹھائے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں اوروہ شیطان دنیامیں بھی اندھا بننے والے کا ساتھی رہتا ہے کہ اسے حلال کاموں سے روکتا اور حرام کاموں کی ترغیب دیتا ہےاللہ تعالی کی اطاعت سے منع کرتا اور اس کی نافرمانی کرنے کا حکم دیتا ہے اور اخرت میں بھی اس کا ساتھی ہو گا۔( صاوی الزخرف تحت الایۃ: ۳۶ ۵ / ۱۸۹۴-۱۸۹۵ ملتقطا) دوسری تفسیریہ ہے کہ جو اللہ تعالی کے ذکر سے اس طرح اعراض کرے کہ اللہ تعالی کی پکڑ سے بے خوف ہو جائے اور اس کے عذاب سے نہ ڈرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں جو اسے گمراہ کرتا رہتا ہے اور وہ اس شیطان کا ساتھی بن جاتا ہے۔( تفسیرطبری الزخرف تحت الایۃ: ۳۶ ۱۱ / ۱۸۸) تیسری تفسیر یہ ہے کہ جو دنیوی زندگی کی لذتوں اور اسائشوں میں زیادہ مشغولیت اورا س کی فانی نعمتوں اور نفسانی خواہشات میں انہماک کی وجہ سے قران سے منہ پھیرے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں اور وہ شیطان اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کے دل میں وسوسے ڈال کر اسے گمراہ کرتا رہتا ہے۔ (ابوسعود الزخرف تحت الایۃ: ۳۶ ۵ / ۵۴۳) قران سے منہ پھیرنے والے کا ساتھی شیطان ہو گا: اس ایت سے معلوم ہوا کہ قران سے منہ پھیرنے والے کافر کا شیطان ساتھی بنا دیا جاتا ہے اورشیطان کو کافروں کا ساتھی بنانے سے متعلق ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و قیضنا لهم قرنآء فزینوا لهم ما بین ایدیهم و ما خلفهم و حق علیهم القول فی امم قد خلت من قبلهم من الجن و الانس-انهم كانوا خسرین‘‘(حم السجدہ:۲) ترجمہکنزالعرفان: اور ہم نے کافروں کیلئے کچھ ساتھی مقرر کردئیے توانہوں نے ان کیلئے ان کے اگے اور ان کے پیچھے کو خوبصورت بنا دیا۔ ان پر بات پوری ہوگئی جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پرثابت ہوچکی ہے۔ بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔ اورحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جب اللہ تعالی کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی موت سے ایک سال پہلے اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے تو وہ جب بھی کسی نیک کام کو دیکھتا ہے وہ اسے برا معلوم ہوتاہے یہاں تک کہ وہ اس پر عمل نہیں کرتا اور جب بھی وہ کسی برے کام کو دیکھتا ہے تو وہ اسے اچھا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس پر عمل کرلیتا ہے۔( مسندالفردوس باب الالف ۱ / ۲۴۵ الحدیث: ۹۴۸) البتہ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ زیر تفسیر ایت میں جہاں کفار کے لئے وعید ہے وہیں ہمارے معاشرے کے ان مسلمانوں کے لئے بھی بڑی عبرت ہے جو دنیا کی زیب و زینت اس کی چمک دمک اور مال و دولت کے حصول میں حد درجہ مصروفیت کی وجہ سے قران پاک کی تلاوت کرنے اسے سمجھنے او ر ا س پر عمل کرنے سے محروم ہیں ۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے اور قران مجید سے تعلق قائم رکھا رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔ یاد رہے کہ زیر تفسیر ایت میں جس شیطان کا ذکر ہے یہ اس شیطان کے علاوہ ہے جس کا ذکر درج ذیل حدیث پاک میں ہےچنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ مسلط کر دیا گیا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کے ساتھ بھیارشاد فرمایا: ’’میرے ساتھ بھی لیکن اللہ تعالی نے اس شیطا ن کے مقابلے میں میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیااب وہ مجھے اچھی بات کے علاوہ کوئی بات نہیں کہتا۔(مسلم کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار باب تحریش الشیطان... الخ ص۱۵۱۲ الحدیث: ۶۹(۲۸۱۴)) برا ساتھی اللہ تعالی کا عذاب ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ برا ساتھی اللہ تعالی کا عذاب ہے اوراچھا ساتھی نصیب ہونا اللہ تعالی کی رحمت ہے۔ اچھے اور برے ساتھی کے بارے میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اچھے اور برے ہم نشین کی مثال ایسے ہے جیسے مشک اٹھانے والا اور بھٹی پھونکنے والا۔ ان میں سے جو مشک اٹھائے ہوئے ہے(اس کے ساتھ رہنے کا فائدہ یہ ہے کہ ) وہ تجھے اس میں سے دے گا یا تو ا س سے خرید لے گا یا تجھے مشک کی خوشبو پہنچے گی اور جو بھٹی پھونکنے والا ہے (اس کے ساتھ رہنے کا نقصان یہ ہے کہ) وہ تیرے کپڑے جلا دے گا یا تجھے بری بو پہنچے گی۔( بخاری کتاب الذبائح والصید... الخ باب المسک ۳ / ۵۶۷ الحدیث: ۵۵۳۴) اورحضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے فرمایا: فاجر سے بھائی چارہ نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مزین کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا تیرے پاس اس کا آنا جانا عیب اور ننگ ہے اور(اسی طرح) احمق سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ اپنے اپ کو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کچھ نفع نہیں پہنچائے گااور کبھی یہ ہوگا کہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا مگر ہوگا یہ کہ نقصان پہنچادے گا اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے اس کی دوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر اور جھوٹے سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ میل جول تجھے نفع نہ دے گاوہ تیری بات دوسروں تک پہنچائے گا اور دوسروں کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا جب بھی وہ سچ نہیں بولے گا۔( ابن عساکر حرف الطاء فی اباء من اسمہ علی علی بن ابی طالب... الخ ۴۲ / ۵۱۶) اللہ تعالی دنیا میں ہمیں اچھے اور نیک ساتھی عطا فرمائے اور برے ساتھیوں سے محفوظ فرمائےامین۔