Surah Az Zukhruf Ayat 38 (43:38)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہاں تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاس آئے گا تو(اپنے ساتھی شیطان سے )کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے تو (تُو) کتنا ہی برا ساتھی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہاں تک کہ جب کافر ہمارے پاس آئے گا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورب پچھم کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی بُرا ساتھی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{حتى اذا جآءنا: یہاں تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاس آئے گا۔} یعنی قران سے منہ پھیرنے والے کفار شیطان کے ساتھی ہوں گے یہاں تک کہ جب قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی شیطان کے ساتھ ہمارے پاس ائے گا تووہ شیطان کو مخاطب کر کے کہے گا:اے میرے ساتھی! اے کاش! میرے اور تیرے درمیان اتنی دوری ہو جائے جتنی مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے کہ جس طرح وہ اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ایک دوسرے کے قریب ہو سکتے ہیں اسی طرح ہم بھی اکٹھے نہ ہوں اور نہ ہی ایک دوسرے کے قریب ہوں اورتو میرا کتنا ہی برا ساتھی ہے۔( جلالین مع صاوی الزخرف تحت الایۃ: ۳۸ ۵ / ۱۸۹۵-۱۸۹۶) حضرت سعید جریری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ قیامت کے دن جب کافر کو اس کی قبر سے اٹھایا جائے گا تو شیطان اس کا ہاتھ تھام لے گاوہ شیطان اس کے ساتھ ہی رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی دونوں کو جہنم میں جانے کا حکم فرما دے گااس وقت کافر کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے توتو کتنا ہی برا ساتھی ہے۔(تفسیرطبری الزخرف تحت الایۃ: ۳۸ ۱۱ / ۱۸۹)