Surah Az Zukhruf Ayat 40 (43:40)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
اَفَاَنْتَ تُسْمِــعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 40
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا تم بہروں کو سناؤ گے یا اندھوں کو راہ دکھاؤ گے اور انہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں؟۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا تم بہروں کو سناؤ گے یا اندھوں کو راہ دکھاؤ گے اور انہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{افانت تسمع الصم: توکیا تم بہروں کو سناؤ گے} تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنی قوم کو دین کی دعوت دینے میں بہت کوشش فرماتے لیکن کفار مکہ اسلام قبول کرنے کی بجائے اپنے کفر اور سر کشی میں مزید ہٹ دھرم ہو رہے تھےان کی ہٹ دھرمی دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم افسردہ ہو جاتے تھے اس پر اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہ کفار اپ سے اور اپ کے دین سے نفرت کرنے میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ جب وہ قران سنتے ہیں تو بہروں کی طرح ہو جاتے ہیں اور جب اپ کے معجزات دیکھتے ہیں تو وہ اندھوں کی طرح ہو جاتے ہیں ان کے اندھا اور بہرہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ کھلی گمراہی میں ہیں لہذ اپ ان دل کے بہروں کو نہیں سنا سکتے کیونکہ وہ قران سن کر اسے قبول کرنے والے کان ہی نہیں رکھتے اور اپ ان دل کے اندھوں کوہدایت کی راہ نہیں دکھا سکتے کیونکہ یہ حق بات دیکھنے والی انکھ ہی سے محروم ہیں اور اپ ان لوگوں کو سنا اور دکھا نہیں سکتے جو کھلی گمراہی میں ہیں کیونکہ ان کے نصیب میں ایمان نہیں۔(تفسیرکبیر الزخرف تحت الایۃ: ۴۰ ۹ / ۶۳۴ مدارک الزخرف تحت الایۃ: ۴۰ ص۱۱۰۱ خازن الزخرف تحت الایۃ: ۴۰ ۴ / ۱۰۶ ملتقطا)