Surah Az Zukhruf Ayat 5 (43:5)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا ہم تم سے قرآن کا نزول اس لئے روک دیں کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو؟۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ افنضرب عنكم الذكر صفحا : تو کیا ہم تم سے قران کا نزول روک دیں ۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ اے کفار مکہ! تمہارے کفر میں حد سے بڑھنے کی وجہ سے کیا ہم تمہیں بیکار چھوڑ دیں اور تمہاری طرف سے وحی قرآن کا رخ پھیردیں اور تمہیں حکم اور ممانعت کچھ نہ کریں (یہ تمہاری بھول ہے) ہم ایسا نہیں کریں گے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر اس وقت یہ قرآن پاک اٹھالیا جاتا جب اس امت کے پہلے لوگوں نے اس سے اعراض کیا تھا تو وہ سب ہلاک ہوجاتے لیکن اللہ تعالی نے اپنی رحمت و کرم سے اس قرآن کا نزول جاری رکھا۔( خازن الزخرف تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۱۰۱) قرب قیامت میں قران مجید اٹھا لیا جائے گا: یاد رہے کہ جب قیامت قریب ہو گی تو اس وقت قران پاک اٹھا لیا جائے گاجیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ حجر اسود اور قران پاک کو اٹھا نہ لیا جائے۔( الجامع الصغیر حرف لا ص۵۸۳ الحدیث: ۹۸۵۲)