Surah Az Zukhruf Ayat 55 (43:55)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا توہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب اُنہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا ہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو ڈبودیا۔
Tafseer (Urdu)
{فلما اسفونا: پھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرعون اور ا س کی قوم نے اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالی کو ناراض کر دیا تو اللہ تعالی نے ان کے جرموں کی سزا میں سب کو غرق کر دیا اور اللہ تعالی نے انہیں ماضی کی عبرتناک داستان بنادیا اور بعد والوں کے لئے مثال بنا دیا تا کہ بعد والے ان کے حال اور انجام سے نصیحت و عبرت حاصل کریں ۔(خازن الزخرف تحت الایۃ: ۵۵ ۴ / ۱۰۸) سرکش مالداروں اور منصب والوں کے لئے عبرت کا مقام : ان ایا ت میں بیان کئے گئے واقعے میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت اور نصیحت ہے جنہیں اللہ تعالی نے مال و دولت سے نوازامعاشرے میں مقام ومرتبہ عطا کیا اورحکومت وسلطنت سے سرفراز کیا لیکن وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالی کا شکر کرنے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنے کی بجائے ا س کی ناشکری کرنے میں اور گناہوں میں مشغول رہ کر مسلسل اس کی نافرمانیوں میں مصروف ہیں ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’فلما نسوا ما ذكروا به فتحنا علیهم ابواب كل شیء-حتى اذا فرحوا بما اوتوا اخذنهم بغتة فاذا هم مبلسون(۴۴)فقطع دابر القوم الذین ظلموا-و الحمد لله رب العلمین(۴۵)‘‘(انعام:۴۴ ۴۵) ترجمہ کنزالعرفان: پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیاجو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیاپس اب وہ مایوس ہیں ۔ پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اورتمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالی کسی بندے کو اس کی پسند کی تمام چیزیں عطا کر رہا ہے لیکن اس بندے کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نافرمانی پر قائم ہے تو یہ اس کے حق میں اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہے۔( معجم الاوسط باب الواو من اسمہ ولید ۶ / ۴۲۲ الحدیث: ۹۲۷۲) اورحضرت عمر بن ذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’اے گناہگارو!اللہ تعالی تمہارے گناہوں کے باوجود جو مسلسل حلم فرما رہا ہے تم ا س کی وجہ سے گناہوں پر اور جری نہ ہوجاواور ا س کی ناراضی سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’فلما اسفونا انتقمنا منهم‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: پھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا توہم نے ان سے بدلہ لیا۔(شعب الایمانالسابع والاربعون من شعب الایمان...الخفصل فی الطبع علی القلب...الخ۵ / ۴۴۷الحدیث:۷۲۲۷) اللہ تعالی مال و دولت اور منصب و مرتبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی سرکشی اور ا س کی افات سے ہمیں محفوظ فرمائے امین۔