Surah Az Zukhruf Ayat 67 (43:67)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ 67
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanگہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار۔
Tafseer (Urdu)
{الاخلآء یومىذۭ بعضهم لبعض عدو: اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔} اس سے پہلی ایت میں قیامت کا ذکر ہوا اب اس ایت سے قیامت کے بعض احوال بیان کئے جا رہے ہیں ۔ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں جودوستی کفر اور معصیت کی بنا پر تھی وہ قیامت کے دن دشمنی میں بدل جائے گی جبکہ دینی دوستی اور وہ محبت جو اللہ تعالی کے لئے تھی دشمنی میں تبدیل نہ ہو گی بلکہ باقی رہے گی۔( تفسیرکبیر الزخرف تحت الایۃ: ۶۷ ۹ / ۶۴۱ جلالین الزخرف تحت الایۃ: ۶۷ ص۴۰۹ ملتقطا) حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالیوجہہ الکریم سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے آپ نے فرمایا: دو دوست مومن ہیں اور دو دوست کافر ۔مومن دوستوں میں ایک مرجاتا ہے تو بارگاہ الہی میں عرض کرتا ہے: یارب! عزوجل فلاں مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری کرنے کا اور نیکی کرنے کا حکم کرتا تھا اور مجھے برائی سے روکتا تھا اور یہ خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حاضر ہونا ہے یارب! عزوجل اسے میرے بعد گمراہ نہ کرنا اور اسے ایسی ہدایت دے جیسی ہدایت مجھے عطا فرمائی اور اس کا ایسا اکرام کر جیسا میرا اکرام فرمایا ۔جب اس کا مومن دوست مرجاتا ہے تو اللہ تعالی دونوں کو جمع کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم میں ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ہر ایک کہتا ہے کہ یہ اچھا بھائی ہے اچھا دوست ہے اچھا رفیق ہے۔ اور دوکافر دوستوں میں سے جب ایک مرجاتا ہے تو دعا کرتا ہے: یارب! عزوجل فلاں مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرماں برداری سے منع کرتا تھا اور بدی کا حکم دیتا تھا نیکی سے روکتا تھااور یہ خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حا ضرنہیں ہونا تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ان میں سے ایک دوسرے کو برا بھائی برا دوست اور برا رفیق کہتا ہے۔( خازن الزخرف تحت الایۃ: ۶۷ ۴ / ۱۰۹-۱۱۰) اللہ تعالی کے نیک بندوں سے محبت قیامت کے دن کام ائے گی: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی رضا کی خاطر ایمان والوں کی اپس میں محبت اور دوستی قیامت کے دن کام ائے گی لہذا اہل حق کا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اللہ تعالی کے اولیاء رحمۃاللہ تعالی علیہم سے محبت اور عقیدت رکھنا انہیں ضرور نفع دے گا۔ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قیامت کب ہوگی ارشاد فرمایا: تو نے اس کے لیے کیاتیاری کی ہے اس نے عرض کی اس کے لیے میں نے کوئی تیاری نہیں کی صرف اتنی بات ہے کہ میں اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں ۔ ارشاد فرمایا ’’تو ان کے ساتھ ہے جن سے تجھے محبت ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ اسلام کے بعد مسلمانوں کو جتنی اس کلمہ سے خوشی ہوئی ایسی خوشی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔( بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب مناقب عمر بن الخطاب ... الخ ۲ / ۵۲۷ الحدیث: ۳۶۸۸ مشکاۃ المصابیح کتاب الاداب باب الحب فی اللہ ومن اللہ الفصل الاول ۲ / ۲۱۸ الحدیث: ۵۰۰۹) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نیک اور پرہیز گار بندوں کو اپنا دوست بنائے اور ان سے محبت رکھے تاکہ اخرت میں ان کی دوستی اور محبت کام ائے ۔ اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھنے کے فضائل: جو مسلمان اللہ تعالی کی رضاکے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں ان کے احادیث میں بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ترغیب کے لئے یہاں چار احادیث ملاحظہ ہوں (1)…حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’جو لوگ میری وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور میری وجہ سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں اور آپس میں ملتے جلتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں ان سے میری محبت واجب ہوگئی۔( موطا امام مالک کتاب الشعر باب ما جاء فی المتحابین فی اللہ ۲ / ۴۳۹ الحدیث: ۱۸۲۸) (2)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی قیامت کے دن فرمائے گا: ’’وہ لوگ کہاں ہیں جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے تھے آج میں ان کو اپنے (عرش کے)سایہ میں رکھوں گا آج میرے (عرش کے)سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ۔( مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب باب فی فضل الحب فی اللہ ص۱۳۸۸ الحدیث: ۳۷(۲۵۶۶)) (3)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگردو شخصوں نے اللہ عزوجل کے لیے باہم محبت کی اور ایک مشرق میں ہے دوسرا مغرب میں قیامت کے دن اللہ تعالی دونوں کو جمع کردے گا اور فرمائے گا: ’’یہی وہ ہے جس سے تو نے میرے لیے محبت کی تھی۔( شعب الایمانالحادی والستون من شعب الایمان...الخ قصۃ ابراہیم فی المعانقۃ...الخ۶ / ۴۹۲الحدیث:۹۰۲۲) (4)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں یاقوت کے ستون ہیں ان پر زبرجد کے بالاخانے ہیں وہ ایسے روشن ہیں جیسے چمکدار ستارے۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان میں کون رہے گا فرمایا: ’’وہ لوگ جو اللہ عزوجل کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہیں ایک جگہ بیٹھتے ہیں آپس میں ملتے ہیں ۔(شعب الایمانالحادی والستون من شعب الایمان...الخقصۃ ابراہیم فی المعانقۃ...الخ۶ / ۴۸۷ الحدیث: ۹۰۰۲)