Surah Al Ahqaf Ayat 3 (46:3)
The Wind-Curved Sandhills · Juz 26 · Makki
مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی اور ایک مقررہ مدت تک (کیلئے)بنایا اور کافر اس چیز سے منہ پھیرے ہیں جس سے انہیں ڈرایا گیا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک مقرر میعاد پراور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے منہ پھیرے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ما خلقنا السموت و الارض و ما بینهما الا بالحق: ہم نے اسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ بنایا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے اسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی بنایا تاکہ وہ ہماری قدرت وحدانیت کمال کی باقی صفات اور ہر نقص و عیب سے پاک ہونے پر دلالت کریں کیونکہ تخلیق کے ذریعے حق کی پہچان ہوتی ہے اور ہر صنعت اپنے بنانے والے کے وجود اور اس کے کمال کی صفت کے ساتھ متصف ہونے پر دلالت کرتی ہے نیزانہیں ہمیشہ باقی رہنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ ایک مقررہ مدت تک کیلئے بنایا ہے اوروہ مقررہ مدت قیامت کا دن ہے جس کے آجانے پر آسمان اور زمین فنا ہوجائیں گے اور جس چیز سے کفار کو ڈرایا گیا ہے وہ اس پر ایمان لانے سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔اس چیز سے مراد عذاب ہے یااس سے قیامت کے دن کی وحشت مراد ہے یااس سے قرآن پاک مراد ہے جو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کا حساب لئے جانے کا خوف دلاتا ہے۔(جلالین مع صاوی الاحقافتحت الایۃ:۳ ۵ / ۱۹۳۱ خازنالاحقافتحت الایۃ:۳۴ / ۱۲۲ مدارک الاحقاف تحت الایۃ: ۳ ص۱۱۲۳ ملتقطا) ایت ’’و ما بینهما الا بالحق‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے 5باتیں معلوم ہوئیں (1)…اس ایت سے ثابت ہوا کہ اس جہان کاایک خدا ہے اور یہ وہ ہے جس کی قدرت کے اثار اسمانوں اور زمین میں کئی طرح سے ظاہر ہیں ۔ (2)…اللہ تعالی نے کسی چیز کو عبث بے کار اور بے فائدہ نہیں بنایا بلکہ ہر چیز کو کسی نہ کسی حکمت سے بنایا ہے۔ (3)… تمام مخلوقات کو پیدا فرمائے جانے کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعے لوگ اللہ تعالی کی معرفت حاصل کریں اور اس کی قدرت و وحدانیت پر ایمان لائیں ۔ (4)… مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا اور قیامت کا واقع ہونا حق ہے کیونکہ اگر قیامت قائم نہ ہو تو ظالموں سے مظلوموں کا حق لینا رہ جائے گا اور اطاعت گزار مومنین ثواب کے بغیر اور کافر عذاب کے بغیر رہ جائیں گے اور یہ اس حقیقت کے خلاف ہے کہ اللہ تعالی نے اسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی بنایا ہے۔ (5)…اس جہان کو اس لئے پیدا نہیں کیا گیا کہ یہ ہمیشہ کے لئے باقی رہے بلکہ اسے ایک مخصوص مدت تک مکلف لوگوں کے لئے عمل کرنے کا مقام بنایا ہے تاکہ وہ یہاں نیک عمل کر کے اخرت میں اس کی اچھی جز اپائیں لہذا ہر شخص کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس سے کیا مطلوب ہے اور اسے کس لئے پیدا کیاگیاہے۔( تفسیرکبیر الاحقاف تحت الایۃ: ۳ ۱۰ / ۵-۶ روح البیان الاحقاف تحت الایۃ: ۳ ۸ / ۴۶۱-۴۶۲ ملتقطا)