Surah Al Ahqaf Ayat 4 (46:4)
The Wind-Curved Sandhills · Juz 26 · Makki
قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِؕ-اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: بھلا بتاؤ تو کہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ،مجھے دکھاؤکہ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایاہے یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا کچھ بچا کھچا علم ہی لے آؤ اگر تم سچے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤانہوں نے زمین کا کون سا ذرّہ بنایا یاآسمان میں اُن کا کوئی حصّہ ہے میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب یا کچھ بچا کھچا علم اگر تم سچے ہو ۔
Tafseer (Urdu)
{قل ارءیتم: تم فرماؤ: بھلا بتاؤ۔} اس ایت میں بتوں وغیرہ کی پوجا کرنے والوں کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کافروں سے فرما دیں : اللہ تعالی کی بجائے جن بتوں وغیرہ کی تم عبادت کرتے ہو اگر وہ حقیقی معبود ہیں تو اس کی دلیل کے طور پر مجھے دکھاؤکہ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایاہے یا آسمانوں کو پیدا کرنے میں ان کی اللہ تعالی کے ساتھ کوئی شرکت ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ وہم ہوا کہ یہ معبود ہونے کا کوئی حق رکھتے ہیں اور اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ خدا کا کوئی شریک ہے جس کی عبادت کرنے کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے تو اس کی دلیل کے طور پرمیرے پاس اس قران سے پہلے کی نازل شدہ کوئی کتاب لے او۔اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کو بیان فرماتا ہے اور اس سے پہلے جو کتاب بھی اللہ تعالی کی طرف سے آئی اس میں بھی یہی بیان ہےتو تم اللہ تعالی کی کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب تو ایسی لے آؤجس میں تمہارے دین یعنی بت پرستی کی شہادت ہو یااگر تم کتاب نہیں لاسکتے تو کوئی ایسا مستند مضمون ہی لے او جوپہلے لوگوں سے منقول ہوتا چلا ا رہا ہو اور اس میں ا س بات کی گواہی موجود ہو کہ تمہارے معبود عبادت کے مستحق ہیں اور جب تمہارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے نہ نقلی تو تم کس بنیاد پر بتوں کی عبادت کرتے ہو ۔( روح البیان الاحقاف تحت الایۃ: ۴ ۸ / ۴۶۳-۴۶۴ مدارک الاحقاف تحت الایۃ: ۴ ص۱۱۲۳ ملتقطا)