Surah Muhammad Ayat 7 (47:7)
Muhammad · Juz 26 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو اگر تم دینِ خدا کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔
Tafseer (Urdu)
{یایها الذین امنوا ان تنصروا الله ینصركم: اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔} ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو!اگر تم اللہ تعالی کے دین اور ا س کے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم کی مدد کرو گے تو اللہ تعالی دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا اورتمہیں فتح وکامرانی نصیب فرمائے گا اور تمہیں میدان جنگ میں اور دین اسلام اورپل صراط پر ثابت قدمی عطافرمائے گا۔( خازن محمد تحت الایۃ: ۷ ۴ / ۱۳۵ مدارک محمد تحت الایۃ: ۷ ص۱۱۳۴ ملتقطا) اللہ تعالی کے دین کی مدد کرنے کی7 صورتیں : اللہ تعالی کے دین کی مدد کرنے کی بہت سی صورتیں ہیں ان میں سے 7صورتیں درج ذیل ہیں ۔ (1)…اللہ تعالی کے دین کو غالب کرنے کیلئے دین کے دشمنوں کے ساتھ زبانقلم اور تلوار سے جہاد کرنا۔ (2)… دین کے دلائل کو واضح کرناان پر ہونے والے شبہات کو زائل کرنادین کے احکام فرائضسننحلال اور حرام کی شرح بیان کرنا۔ (3)…نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔ (4)…دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کوشش اور جدو جہدکرنا۔ (5)…وہ قابل اور مستندعلماء جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی ترویج و اشاعت کے لئے وقف کی ہوئی ہیں ان کے نیک مقاصد میں ان کا ساتھ دینا۔ (6)…نیک اور جائز کاموں میں اپنا مال خرچ کرنا۔ (7)…علماء اور مبلغین کی مالی خیر خواہی کر کے انہیں دین کی خدمت کے لئے فارغ البال بنانا۔ نوٹ:ان سات صورتوں کے علاوہ اور بھی بہت سی صورتیں ہیں جو اللہ تعالی کے دین کی مدد کرنے میں داخل ہیں ۔ بندوں سے مددمانگناشرک نہیں : یاد رہے کہ اللہ تعالی غنی اور بے نیاز ہے اسے نہ بندوں کی مدد کی حاجت ہے اور نہ ہی وہ اپنے دین کی ترویج و اشاعت اور اسے غالب کرنے میں بندوں کی مدد کا محتاج ہے یہاں جوبندوں کو اللہ تعالی کے دین کی مدد کرنے کا فرمایا گیا یہ در اصل ان کے اپنے ہی فائدے کے لئے ہے کہ اس صورت میں انہیں اللہ تعالی کی مدد حاصل ہو گی اور اللہ تعالی کی طرف سے انہیں ثابت قدمی نصیب ہو گی۔یہاں اسی حوالے سے مزید دو باتیں ملاحظہ ہوں (1)… اللہ تعالی کے دین کی مددخالص اللہ تعالی کی رضا کیلئے کی جائے اس میں کوئی دنیاوی مقصد پیش نظرنہ ہو۔ (2)…اس ایت سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی کے بندوں کی مد د لینا شرک نہیں کیونکہ جب بندوں کی مدد سے غنی اور بے نیاز رب تعالی نے بندوں کو اپنے دین کی مدد کرنے کا فرما یا ہے تو عام بندے کا کسی سے مدد طلب کرنا کیوں شرک ہوگا