Surah Qaf Ayat 15 (50:15)
The Letter Qaf · Juz 26 · Makki
اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِؕ-بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا ہم پہلی بار بنانے کی وجہ سے تھک گئے؟ بلکہ وہ نئی پیدائش کے متعلق شبے میں ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے بلکہ وہ نئے بننے سے شبہ میں ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{افعیینا بالخلق الاول: تو کیا ہم پہلی بار بنانے کی وجہ سے تھک گئے} اس صورت کی ابتدا میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ کفار مکہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرتے ہیں اور اب یہاں سے ان منکروں کے انکار کا جواب دیاجارہاہے کہ کیا ہم پہلی بار بنانے کی وجہ سے تھک گئے ہیں جس کی وجہ سے دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے دشوار ہے ہم تھکے ہر گز نہیں بلکہ وہ لوگ موت کے بعد پیدا کئے جانے سے متعلق شبے میں ہیں ۔( تفسیرکبیر ق تحت الایۃ: ۱۵ ۱۰ / ۱۳۳ خازن ق تحت الایۃ: ۱۵ ۴ / ۱۷۶ ملتقطا) کفار مکہ کی انتہائی جہالت: کفار مکہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ مخلوق کو اللہ تعالی نے پیدا کیااس کے باوجود وہ اس بات کو محال اور بعید سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی مخلوق کو دوبارہ پیدا فرمائے گا۔یہ ان کی کمال جہالت تھی کیونکہ ایجاد کے مقابلے میں دوبارہ بنانا ظاہرنظر میں زیادہ اسان ہے اور یہ لوگ ایجاد پر تو قدرت مان رہے ہیں اور اس سے زیادہ اسان پر قدرت کا انکار کر رہے ہیں ۔