Surah Qaf Ayat 27 (50:27)
The Letter Qaf · Juz 26 · Makki
قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰـكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس کا ساتھی شیطان کہے گا: اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا تھا،ہاں یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس کے ساتھی شیطان نے کہا ہمارے رب میں نے اُسے سرکش نہ کیا ہاں یہ آپ ہی دُور کی گمراہی میں تھا۔
Tafseer (Urdu)
{قال قرینه: اس کے ساتھی شیطان نے کہا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت کے دن کافرکوجہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گاتو اس وقت وہ کہے گا: اے ہمارے رب !مجھے اس شیطان نے ورغلایا اور کبھی بھی راہ راست پرچلنے نہ دیا ا س لئے میں بے قصور ہوں ۔اس پروہ شیطان جو دنیا میں اس پر مسلط تھا کہے گا: اے ہمارے رب!میں نے اسے کبھی بھی سر کشی پر مجبورنہیں کیاتھا بلکہ میں تواسے فقط مشورہ دیتااوریہ اس پرعمل کرتا رہا اور گمراہی کی عمیق وادیوں میں جاگرالہذا میں اس سے بری ہوں ۔ اس پر اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا: میرے پاس نہ جھگڑو کیونکہ جزا کے مقام اور حساب کی جگہ میں جھگڑا کچھ نفع نہیں دے گا اورمیں نے پہلے ہی اپنی کتابوں میں اور اپنے رسولوں کی زبان سے یہ وعید بھیج دی تھی کہ جو سرکشی کرے گا اسے میں عذاب دوں گا اور ا س وعید کے بعد میں نے تمہارے لئے کوئی حجت باقی نہیں چھوڑی اور یاد رکھو کہ میرے ہاں بات بدلتی نہیں اس لئے تم یہ طمع نہ کرو کہ میں نے کافروں کو جہنم میں داخل کرنے کی جو وعید سنائی تھی اسے میں بدل دوں گااور نہ ہی میری یہ شان ہے کہ میں کسی کو جرم کے بغیر سزا دے کراس پر ظلم کروں ۔( خازن ق تحت الایۃ: ۲۷-۲۹ ۴ / ۱۷۷ مدارک ق تحت الایۃ: ۲۷-۲۹ ص۱۱۶۲-۱۱۶۳ ملتقطا) {ما یبدل القول لدی: میرے ہاں بات بدلتی نہیں ۔} یاد رہے کہ دعا اور نیک کام سے اللہ تعالی کے نزدیک تقدیر مبرم حقیقی نہیں بدلتی بلکہ وہ تبدیلی ہمارے علم کے لحاظ سے ہوتی ہے لہذا اس ایت میں اور حدیث میں کہ دعا سے قضا بدل جاتی ہے تعارض نہیں۔