Surah Qaf Ayat 38 (50:38)
The Letter Qaf · Juz 26 · Makki
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ﳓ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا اور ہمیں کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا اور تکان ہمارے پاس نہ آئی۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد خلقنا السموت و الارض و ما بینهما فی ستة ایام: اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا۔} شان نزول : مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان یہودیوں کے رد میں نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالی نے اسمان و زمین اور ان کے درمیان موجودکائنات کو چھ دن میں بنایا جس میں سے پہلا دن اتوار اور اخری دن جمعہ ہے پھر وہ (معاذاللہ) تھک گیا اور ہفتے کے دن اس نے عرش پر لیٹ کر آرام کیا۔( خازن ق تحت الایۃ: ۳۸ ۴ / ۱۷۹)اس آیت میں ان کا رد ہے کہ اللہ تعالی تھکنے سے پاک ہے اور وہ ا س پرقادر ہے کہ ایک آن میں سارا عالم بنادے لیکن وہ چونکہ ہر چیز کو حکمت کے تقاضے کے مطابق ہستی عطا فرماتا ہے اس لئے ا س نے کائنات کو چھ دن میں تخلیق فرمایا۔ ا س سے معلوم ہوا کہ کائنات کو چھ دن میں پیدا فرمانا کمزوری یا تھکن کی بنا پر نہ تھا بلکہ اس اہستگی میں ہزارہا حکمتیں تھیں اور بندوں کو تعلیم تھی کہ ہم قادر ہو کر جلدی نہیں کرتے تم مجبور ہونے کے باوجود کیوں جلد بازی کرتے ہو۔