Surah Qaf Ayat 5 (50:5)
The Letter Qaf · Juz 26 · Makki
بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک ایسی بات میں ہیں جسے قرار نہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بے ثبات بات میں ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{بل كذبوا بالحق: بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا۔} اس ایت میں حق سے مراد نبوت ہے جس کے ساتھ روشن معجزات ہیں یا اس سے مراد قران مجیدہے اور ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار مکہ نے صرف تعجب ہی نہیں کیابلکہ ا س سے کہیں زیادہ خطرناک کام بھی کیا کہ جب ان کے پاس حق ایا تو انہوں نے سوچے سمجھے بغیر اسے جھٹلا دیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور قران مجید سے متعلق ایک ایسی بات میں پڑے ہوئے ہیں جسے قرار نہیں اور وہ یہ ہے کہ کبھی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو شاعر کبھی جادو گر اور کبھی کاہن کہتے ہیں اسی طرح قرآن پاک کو کبھی شعرکبھی جادو اور کبھی کہانت کہتے ہیںکسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے۔( روح البیان ق تحت الایۃ: ۵ ۹ / ۱۰۵-۱۰۶ مدارک ق تحت الایۃ: ۵ ص۱۱۶۰ جلالین ق تحت الایۃ: ۵ ص۴۲۹ ملتقطا)