Surah At Tur Ayat 25 (52:25)
The Mount · Juz 27 · Makki
وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ 25
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورآپس میں سوال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اُن میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے۔
Tafseer (Urdu)
{ و اقبل بعضهم على بعض: اوراپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی تین ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جنت میں جنتی ایک دوسرے سے دریافت کریں گے کہ وہ دنیامیں کس حال میں تھے اور کیا عمل کرتے تھے اور کس بنا پر اللہ تعالی کی طرف سے ان نعمتوں سے سرفراز ہوئے یہ دریافت کرنا اللہ تعالی کی نعمت کا اعتراف کرنے کیلئے ہوگاچنانچہ وہ کہیں گے کہ بیشک ہم جنت میں داخل ہونے سے پہلے اپنے گھروں میں اللہ تعالی کے خو ف سے اور اس اندیشہ سے سہمے ہوئے تھے کہ نفس و شیطان ایمان میں خلل کا باعث نہ ہوجائیں اور نیکیوں کو روک لئے جانے اور بدیوں پر گرفت کئے جانے کا بھی اندیشہ تھا۔ تو اللہ تعالی نے ہم پر رحمت اور مغفرت فرما کر احسان کیا اور ہمیں جہنم کی سخت گرم ہوا کے عذاب سے بچالیا بیشک ہم دنیا میں اخلاص کے ساتھ صرف اللہ تعالی کی عبادت کرتے تھے اور اسی سے جہنم کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے بیشک وہی احسان فرمانے والا مہربان ہے کہ جب کوئی اس کی عبادت کرے تو اسے ثواب عطا فرماتا ہے اور جب کوئی اس سے دعا کرے تو وہ قبول فرماتا ہے۔( جلالین الطور تحت الایۃ: ۲۵-۲۸ ص۴۳۶ مدارک الطور تحت الایۃ: ۲۵-۲۸ ص۱۱۷۵ ملتقطا) جہنم کی سخت گرم ہو اسے پناہ مانگا کریں : ایت نمبر27 میں جہنم کی جس گرم ہوا کے عذاب کا ذکر ہوا ا س کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر اللہ تعالی دنیا والوں پر (انگلی کے) ایک پورے کی مقدار گرم ہو اکے عذاب کو کھول دے تو زمین اور ا س پر موجود تمام چیزیں جل جائیں گی۔( در منثور الطور تحت الایۃ: ۲۷ ۷ / ۶۳۴) ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں جہنم کی اس گرم ہوا سے پناہ طلب کیا کرے اس سے متعلق دو واقعات ملاحظہ ہوں : (1)… حضرت مسروق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایک مرتبہ اس ایت ’’فمن الله علینا و وقىنا عذاب السموم‘‘ کی تلاوت فرمائی تو (خوف کی وجہ سے یہ) دعا مانگی ’’اللہم من علینا وقنا عذاب السموم انک انت البر الرحیم‘‘ اے اللہ! عزوجل ہم پر احسان فرما اور ہمیں گرم ہوا کے عذاب سے بچا لے بے شک تو ہی احسان فرمانے والا مہربان ہے۔( مصنف ابن ابی شیبہکتاب صلاۃ التطوع والامامۃفی الرجل یصلی فیمر بایۃ رحمۃ او ایۃ عذاب۲ / ۱۱۵الحدیث:۲) (2)…حضرت عباد بن حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ’’میں حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور وہ اس ایت ’’فمن الله علینا و وقىنا عذاب السموم‘‘ کی تلاوت فرما رہی تھیں یہ ایت تلاوت فرمانے کے بعد رک گئیں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں (گرم ہوا کے عذاب سے) پناہ مانگنے لگیں اور دعا کرنے لگیں ۔اس دوران میں بازار کسی کام سے گیا اور جب اپنا کام پورا کر کے واپس لوٹا تو ا بھی تک حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا (گرم ہوا کے عذاب سے) پناہ مانگ رہی تھیں اور دعا کر رہی تھیں ۔( مصنف ابن ابی شیبہکتاب صلاۃ التطوع والامامۃفی الرجل یصلی فیمر بایۃ رحمۃ او ایۃ عذاب۲ / ۱۱۵الحدیث:۳) اللہ تعالی ہمیں بھی اس عذاب سے محفوظ رکھے اور اس سے پناہ مانگنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔ سورہ طور کی ایت نمبر25تا27سے حاصل ہونے والی معلومات: ا ن سے تین باتیں معلوم ہوئیں (1)… جنتیوں کو اپنی دنیاوی مصروفیات یاد ہوں گی جن کاوہ تذکرہ کریں گے ۔ (2)… اللہ تعالی کا خوف تقوی کی جڑ ہے کہ نیک عمل کرنے کے باوجود بھی اس سے ڈرے۔ (3)… دنیا کا خوف اخرت کی بے خوفی کا ذریعہ ہے۔