Surah An Najm Ayat 27 (53:27)
The Star · Juz 27 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓىٕكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے فرشتوں کے عورتوں جیسے نام رکھتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک وہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ملائکہ کا نام عورتوں کا سا رکھتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ ان الذین لا یؤمنون بالاخرة: بیشک وہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔} اس ایت اورا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جو اخرت میں دوبارہ زندہ ہونے پر یقین نہیں رکھتےوہ اللہ تعالی کے فرشتوں کو اس کی بیٹیا ں بتا کران کے عورتوں جیسے نام رکھتے ہیں حالانکہ انہیں خود بھی اس بات کا کوئی یقینی علم نہیں کہ فرشتے اللہ تعالی کی بیٹیا ں ہیں بلکہ وہ تو فرشتوں کو عورتیں کہنے میں صرف گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یقین کی جگہ گمان کچھ کام نہیں دیتا کیونکہ حقیقت حال علم اوریقین سے معلوم ہوتی ہے نہ کہ وہم و گمان سے لہذا اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اس سے منہ پھیر لیں جو ہمارے قران پر ایمان لانے سے پھرا اور اس نے صرف دنیوی زندگی کو چاہا اور آخرت پر ایمان نہ لایاکہ اس کا طلبگار ہوتا اور اخرت کے لئے کچھ عمل کرتا۔( خازن النجم تحت الایۃ: ۲۷-۲۹ ۴ / ۱۹۶) { و ان الظن لا یغنی من الحق شیــٴـا: اور بیشک گمان یقین کی جگہ کچھ کام نہیں دیتا۔} اس مقام پر ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ علماء کرام نے جن شرعی مسائل کا حکم قران پاک یا احادیث طیبہ وغیرہ میں نہ پایا تو ان مسائل کا شرعی حکم قران و حدیث وغیرہ میں موجود ان جیسے دیگر مسائل پر قیاس کرتے ہوئے بیان فرمایا اور وہ قیاس جو قران پاک حدیث پاک اور اجماع کے موافق ہو وہ بالکل حق ہے جبکہ وہ قیاس جو اللہ تعالی اور اس کے رسول کے فرمان کے مقابلے میں ہو وہ ناحق بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے اور یہاں ایت میں بھی اسی گمان کا ذکر ہے جو اللہ تعالی اوراس کے رسول کے فرمان کے مقابلے میں ہو نہ کہ اس گمان کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کے فرمان کے موافق ہو۔ قران و حدیث میں اس قیاس کے جائز ہونے کا ثبوت موجود ہے جو اللہ تعالی اور اس کے رسول کے فرمان کے موافق ہو جیسے اللہ تعالی نے یہودیوں کا دنیوی انجام بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ فاعتبروا یاولی الابصار‘‘(حشر:۲) ترجمہ کنزالعرفان: تو اے انکھوں والو! عبرت حاصل کرو۔ یعنی ہر شخص اپنی عملی حالت کو ان کفار کی حالت پر قیاس کر لے تو اسے اپنا انجام خود ہی معلوم ہو جائے گا۔ اور سنن ابو داود میں ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو ان سے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارے سامنے مقدمہ پیش ہو گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ۔حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی :اللہ عزوجل کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم اللہ تعالی کی کتاب میں (اس کا حکم) نہ پاو (تو کیسے فیصلہ کرو گے)۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنت سے فیصلہ کروں گا۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اگر تم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنت میں (اس کا حکم) نہ پاو اور نہ ہی کتاب اللہ میں پاو (تو کیسے فیصلہ کرو گے) حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی :میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور حقیقت تک پہنچنے میں کوتاہی نہ کروں گا۔ (ان کی بات سن کر) حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے سینے کو تھپکا اور فرمایا: ’’خدا عزوجل کا شکر ہے کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بھیجے ہوئے کو ا س چیز کی توفیق بخشی جو اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو خوش کرے۔( ابو داود کتاب الاقضیۃ باب اجتہاد الرای فی القضاء ۳ / ۴۲۴ الحدیث: ۳۵۹۲) لہذا زیر تفسیر ایت کو قیاس کا مطلقا انکار کرنے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔ {و لم یرد الا الحیوة الدنیا: اور اس نے صرف دنیاوی زندگی کو چاہا۔} اس ایت سے معلوم ہوا کہ مشرکین نہ اخرت کو مانتے ہیں اور نہ وہاں کے لئے تیاری کرتے ہیں بلکہ ان کی ہر کوشش دنیا کے لئے ہوتی ہے اورفی زمانہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کفار کی طرح اخرت کا انکار تو نہیں کرتے بلکہ انہیں قیامت قائم ہونےمرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اورقیامت کے دن اعمال کے حساب اوران کی جزا و سزا پر ایمان ہے لیکن وہ اخرت کی تیاری سے انتہائی غافل اور صرف اپنی دنیا سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ اج مسلمان اپنی اولاد کو دنیوی علوم و فنون کی تعلیم دینے اور ا س تعلیم پر انے والے بھاری اخراجات برداشت کرنے پر اس لئے تیار ہیں کہ ان کی دنیا سنور جائے گی جبکہ دینی اور مذہبی تعلیم دینے سے اس لئے کتراتے ہیں کہ کہیں ان کی دنیا خراب نہ ہو جائے اوریہی وجہ ہے کہ اج کل دینی مدارس میں زیادہ تر تعداد ان طالب علموں کی نظر اتی ہے جن کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔ حضرت موسی بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اسے دنیا سے زیادہ ناپسندیدہ ہواور اللہ تعالی نے جب سے دنیا پیدا فرمائی ہے تب سے اس کی طرف نظر نہیں فرمائی ۔( شعب الایمان الحادی والسبعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۷ / ۳۳۸ الحدیث: ۱۰۵۰۰) علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے دنیا کو اصل مقصود نہیں بنایا بلکہ اسے مقصود تک پہنچنے کا راستہ بنایا ہے۔(روح البیان النجم تحت الایۃ: ۳۰ ۹ / ۲۴۰)اللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور اخرت کی تیاری کی توفیق دے امین۔