Surah An Najm Ayat 39 (53:39)
The Star · Juz 27 · Makki
وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔
Tafseer (Urdu)
{ و ان لیس للانسان الا ما سعى: اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔} اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی ہی نیکیوں سے فائدہ پاتا ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ مضمون بھی حضرت ابراہیم اورحضرت موسی علیہما الصلوۃ والسلام کے صحیفوں کا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ان ہی امتوں کے لئے خاص تھا جبکہ اس امت کے لئے ان کا اپنا عمل بھی ہے اور وہ عمل بھی ہے جو ان (کو ثواب پہنچانے) کے لئے کیا گیا ہو۔اس ایت کے بارے میں مفسرین کے اور بھی اقوال ہیں : (1)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ یہ حکم ہماری شریعت میں اس آیت ’’ الحقنا بهم ذریتهم‘‘ سے منسوخ ہوگیا۔ (2)… یہاں انسان سے کافر مراد ہے اور ایت کے معنی یہ ہیں کہ کافر کو کوئی بھلائی نہ ملے گی البتہ اس نے دنیا میں جو بھلائی کی ہو گی تو دنیا ہی میں رزق کی وسعت یا تندرستی وغیرہ کے ذریعے اس کا بدلہ اسے دے دیا جائے گاتاکہ آخرت میں اس کا کچھ حصہ باقی نہ رہے۔ (3)…مفسرین نے اس ایت کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا ہے کہ آدمی عدل کے تقاضے کے مطابق وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو اور اللہ تعالی اپنے فضل سے جو چاہے عطا فرمائے۔( خازن النجم تحت الایۃ: ۳۹ ۴ / ۱۹۹ مدارک النجم تحت الایۃ: ۳۹ ص۱۱۸۲ ملتقطا) میت کو نیک اعمال کا ثواب پہنچتا ہے: اس مقام پر ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ میت کو نیک اعمال کا جو ثواب پہنچایا جاتا ہے وہ اسے پہنچتا ہے اور یہ بات کثیر احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں :ایک شخص نے بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں عرض کی :میری والدہ ماجدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں میرا خیال ہے کہ اگر وہ کوئی بات کرتیں توصدقہ دینے کا کہتیں اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو کیا انہیں ثواب ملے گا۔ ارشاد فرمایا:ہاں ۔( بخاری کتاب الجنائز باب موت الفجاۃ البغتۃ۱ / ۴۶۸ الحدیث: ۱۳۸۸) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور وہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے تو انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میری والدہ کا انتقال ہو گیا تھا اور میں ان کے پاس موجود نہیں تھا اگر میں ان کی طرف سے کوئی خیرات کروں تو کیا انہیں ثواب پہنچے گا ۔تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ ہاں ۔حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی :میں اپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا مخراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔( بخاری کتاب الوصایا باب اذا قال: ارضی او بستانی صدقۃ عن امی فہو جائز۔۔۔ الخ ۲ / ۲۳۹ الحدیث: ۲۷۵۶) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’میں نے (ایک مرتبہ) بارگاہ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سعد کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے تو کون سا صدقہ افضل ہےارشاد فرمایا ’’پانی۔ چنانچہ انہوں نے کنوا ں کھدوایااور کہا’’ہذہ لام سعد‘‘یہ سعد کی والدہ (کے ایصال ثواب ) کے لئے ہے۔( ابو داود کتاب الزکاۃ باب فی فضل سقی المائ ۲ / ۱۸۰ الحدیث: ۱۶۸۱) نیزایصال ثواب کے درست ہونے پر صحیح العقیدہ علماء امت کا اجماع ہے اور فقہ کی کتابوں میں بھی بکثرت مقامات پر اس کا جواز مذکور ہے اسی لئے مسلمانوں میں جویہ معمول ہے کہ وہ اپنے مردوں کو فاتحہ سوم چہلم برسی اور عرس وغیرہ میں عبادات اور صدقات سے ثواب پہنچاتے رہتے ہیں ان کا یہ عمل احادیث کے بالکل مطابق ہے۔ نیز یہ بھی یا د رکھیں کہ ایصال ثواب کے لئے شریعت کی طرف سے کوئی دن خاص نہیں بلکہ جب چاہیں جس وقت چاہیں ایصال ثواب کر سکتے ہیں اور اگر عزیزرشتہ داروں یا دوست احباب کی سہولت کے لئے دن معین کر کے ایصال ثواب کیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔