Surah Al Qamar Ayat 17 (54:17)
The Moon · Juz 27 · Makki
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے / نصیحت لینے کیلئے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے / نصیحت لینے والا؟.
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا۔
Tafseer (Urdu)
{ و لقد یسرنا القران للذكر: اور بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے / نصیحت لینے کیلئے آسان فرمادیا۔}اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بے شک ہم نے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے اپ کی قوم کی زبان میں قران مجیدنازل فرما کر ان کے لئے اسان کر دیااور طرح طرح کی نصیحتوں اور عبرتوں سے قران کو بھر دیا اورا س میں وعدوں اور وعیدوں کوبیان کر دیا تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ بیشک ہم نے قران کو یاد کرنے کے لئے اسان کر دیا تو ہے کوئی جو اسے یادکرے۔( ابو سعود القمر تحت الایۃ: ۱۷۵ / ۶۵۵ مدارک القمر تحت الایۃ: ۱۷ ص۱۱۸۷ ملتقطا) قران مجید یاد کرنے والے کے لئے اسان ہے : حضرت علامہ مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنےقران پاک کی تعلیم دینے اس میں مشغول رہنے اور اسے حفظ کرنے کی ترغیب ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پاک یاد کرنے والے کی اللہ تعالی کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اس کو حفظ کرنا سہل وآسان فرما دینے ہی کا ثمرہ ہے کہ عربی عجمیبڑے حتی کہ بچے تک بھی اس کو یاد کرلیتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں ہے جو یاد کی جاتی ہو اور سہولت سے یاد ہوجاتی ہو ۔( خزائن العرفان القمر تحت الایۃ: ۱۷ ص۹۷۷ ملخصا) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی قران سننے والے سے دنیاکی مصیبتیں دور کر دیتا ہے اور قران پڑھنے والے سے اخرت کی مصیبتیں دور کر دیتا ہے۔ قران پاک کی ایک ایت سننا سونے کے خزانے سے بہتر ہے اور ا س کی ایک ایت پڑھنا عرش کے نیچے موجود چیزوں سے افضل ہے کیونکہ یہ اللہ تعالی کا وہ کلام ہے جو اس نے مخلوق پیدا کرنے سے پہلے فرمایا تو جس نے قران میں الحاد کیا(یعنی بے دینی کا کوئی معاملہ کیا) یا قران کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا تو اس نے کفر کیا اور اگر اللہ تعالی قران پاک کو لوگوں کی زبانوں پر اسان نہ فرما دیتا کوئی شخص بھی رحمن کے کلام کا تکلم کرنے پر قادر نہ ہوتا۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ و لقد یسرنا القران للذكر فهل من مدكر‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا( مسند الفردوس باب الیاء ۵ / ۲۵۹ الحدیث: ۸۱۲۲)