Surah Al Qamar Ayat 5 (54:5)
The Moon · Juz 27 · Makki
حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔(یہ قرآن) انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت ہے تو (ایسوں کو) ڈر انے والے امور فائدہ نہیں دیتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanانتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پھر کیا کام دیں ڈر سنانے والے۔
Tafseer (Urdu)
{حكمة بالغة: انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ یہ قران انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت سے بھرپور ہے تو جب کافر ڈرسنانے والوں کی مخالفت کریں گے اور انہیں جھٹلائیں گے تو یہ انہیں کیا فائدہ دیں گے۔ (خازن القمر تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۲۰۲)اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ قل انظروا ما ذا فی السموت و الارض-و ما تغنی الایت و النذر عن قوم لا یؤمنون‘‘(یونس:۱۰۱) ترجمہ کنزالعرفان: تم فرماؤ: تم دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کیا (نشانیاں ) ہیں اور نشانیاں اور رسول ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتے جو ایمان نہیں لاتے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ قران انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت سے بھرپور ہے تو (کافروں کو پھربھی) ڈر انے والے امور جیسے سابقہ امتوں پر انے والے عذابات نے فائدہ نہ دیا۔( جلالین مع صاوی القمر تحت الایۃ: ۵ ۶ / ۲۰۶۱)