Surah Al Qamar Ayat 6 (54:6)
The Moon · Juz 27 · Makki
فَتَوَلَّ عَنْهُمْۘ- یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو تم ان سے منہ پھیرلو، جس دن پکارنے والا ایک سخت انجان بات کی طرف بلائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو تم اُن سے منہ پھیرلو جس دن بلانے والا ایک سخت بے پہچانی بات کی طرف بلائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{فتول عنهم: تو تم ان سے منہ پھیرلو۔}یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کفار کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہے کہ اپ ان سے منہ پھیر لیں کیونکہ وہ نصیحت کرنے اور ڈر سنانے سے عبرت حاصل کرنے والے نہیں ۔ایک قول یہ ہے کہ یہ ایت جہاد والی ایت سے منسوخ ہو چکی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ایت منسوخ نہیں کیونکہ ا س کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان کفار سے منہ پھیر لیں اور ان سے کلام کرنے کی بجائے ان کے ساتھ جہاد فرمائیں ۔( مدارک القمر تحت الایۃ: ۶ ص۱۱۸۵جلالین مع صاوی ا لقمر تحت الایۃ: ۶ ۶ / ۲۰۶۱ ملتقطا) { یوم یدع الداع الى شیء نكر: جس دن پکارنے والا ایک سخت انجان بات کی طرف بلائے گا۔} ایت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ وہ دن یاد کریں جب حضرت اسرافیل علیہ السلام بیت المقدس کی چٹان پر کھڑے ہو کرایک ایسی سخت انجان بات کی طرف بلائیں گے کہ اس جیسی سختی کبھی لوگوں نے نہ دیکھی ہوگی اور وہ بات قیامت اور حساب کی ہولناکی ہے۔اس وقت لوگوں کا حال یہ ہو گا کہ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی اور وہ اپنی قبروں سے اس حال میں نکلیں گے کہ کثرت کی وجہ سے گویا وہ ہر طرف پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں اوروہ خوف اور حیرت کی وجہ سے یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ کہاں جائیں حضرت اسرافیل علیہ السلام کی آواز کی طرف دوڑتے ہوئے ان میں سے کافر کہیں گے: یہ کافروں پر بڑاسخت دن ہے۔( خازن القمر تحت الایۃ : ۶-۸ ۴ / ۲۰۲-۲۰۳ مدارک القمر تحت الایۃ: ۶-۸ ص۱۱۸۵-۱۱۸۶جلالین مع صاوی القمر تحت الایۃ: ۶-۸ ۶ / ۲۰۶۱-۲۰۶۲ ملتقطا) ان ایات میں قیامت قائم ہوتے وقت کی جو حالت بیان کی گئی اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہتعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ و نفخ فی الصور فاذا هم من الاجداث الى ربهم ینسلون(۵۱)قالوا یویلنا من بعثنا من مرقدناﱃ هذا ما وعد الرحمن و صدق المرسلون‘‘(یس:۵۱۵۲) ترجمہ کنزالعرفان: اور صورمیں پھونک ماری جائے گی تو اسی وقت وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلے جائیں گے ۔کہیں گے: ہائے ہماری خرابی! کس نے ہمیں ہماری نیند سے جگادیا یہ وہ ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ فرمایاتھا۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: ’’ یوم یخرجون من الاجداث سراعا كانهم الى نصب یوفضون(۴۳) خاشعة ابصارهم ترهقهم ذلة-ذلك الیوم الذی كانوا یوعدون‘‘(معارج:۴۳۴۴) ترجمہ کنزالعرفان: جس دن قبروں سے جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے گویا وہ نشانوں کی طرف لپک رہے ہیں ۔ان کی انکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ان پر ذلت چڑھ رہی ہوگی یہ ان کا وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالی ہمیں قیامت کی سختیوں اور ہولناکیوں سے امن نصیب فرمائےامین۔ قیامت کا دن کافروں پر سخت ہوگا جبکہ کامل ایمان والوں پر سخت نہیں ہو گا: ایت نمبر8 سے معلوم ہوا کہ قیامت کا دن کافروں پر سخت ہو گا اور کامل ایمان والوں پر سخت نہیں ہو گا۔ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے کفار کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’ الملك یومىذ ﹰالحق للرحمن-و كان یوما على الكفرین عسیرا‘‘(فرقان:۲۶) ترجمہ کنزالعرفان: اس دن سچی بادشاہی رحمن کی ہوگی اور کافروں پر وہ بڑا سخت دن ہوگا۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ فاذا نقر فی الناقور(۸) فذلك یومىذ یوم عسیر(۹) على الكفرین غیر یسیر‘‘(مدثر:۸-۱۰) ترجمہ کنزالعرفان: پھر جب صور میں پھونکا جائے گا۔تو وہ دن سخت دن ہوگا ۔کافروں پر آسان نہیں ہوگا۔ اور نیک اعمال کرنے والے مومنین کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’ من جآء بالحسنة فله خیر منها-و هم من فزع یومىذ امنون‘‘(نمل:۸۹) ترجمہ کنزالعرفان: جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ اصحب الجنة یومىذ خیر مستقرا و احسن مقیلا‘‘(فرقان:۲۴) ترجمہ کنزالعرفان: جنت والے اس دن ٹھکانے کے اعتبار سے بہتر اور ارام کے اعتبار سے سب سے اچھے ہوں گے۔ اللہ تعالی ہمیں بھی ان خوش نصیب حضرات کے گروہ میں شامل فرمائے جنہیں قیامت کے دن امن اور چین نصیب ہو گاامین۔