Surah Al Waqiah Ayat 71 (56:71)
The Inevitable · Juz 27 · Makki
اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَﭤ 71
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو بھلا بتاؤتو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ افرءیتم النار التی تورون: تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ مجھے ا س اگ کے بارے میں بتاو جو تم دو تر لکڑیوں سے روشن کرتے ہو کیا تم نے اس کادرخت پیدا کیا ہےایسا ہر گز نہیں بلکہ ہم ہی اسے پیدا کرنے والے ہیں تو جب تم نے میری قدرت کو پہچان لیا تو میرا شکر ادا کرو اور دوبارہ زندہ کرنے پر میری قدرت کاانکار نہ کرو۔اہل عرب (اس زمانے میں )دو مخصوص لکڑیوں کو ایک دوسرے سے رگڑ کر اگ جلایا کرتے تھے اوپر والی لکڑی کو وہ زند اور نیچے والی لکڑی کو زندہ کہتے تھے اورجن درختوں سے یہ لکڑیاں حاصل ہوتی تھیں انہیں مرخ اور عفار کہتے تھے۔( تفسیر قرطبی الواقعۃ تحت الایۃ: ۷۱-۷۲ ۹ / ۱۶۲ الجزء السابع عشر مدارک الواقعۃ تحت الایۃ: ۷۱-۷۲ ص۱۲۰۳ ملتقطا) ایندھن حاصل کرنے کے موجودہ ذرائع اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہیں : یہ اللہ تعالی کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے فی زمانہ ہمارے لئے ایندھن حاصل کرنے کے بہت سے ذرائع جیسے کوئلہ گیس اور تیل وغیرہ ظاہر فرما دئیے ہیں اور ان سے ہم اسانی کے ساتھ اپنی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ جس طرح اس درخت کو اللہ تعالی نے پیدا کیا جسے رگڑ کر ایندھن حاصل کیا جاتا تھا اسی طرح کوئلہ گیس اور تیل وغیرہ کو بھی اللہ تعالی نے ہی پیدا کیا ہےلہذا ہر بندے پر لازم ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرے۔