Surah Al Qalam Ayat 48 (68:48)
The Pen · Juz 29 · Makki
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌﭤ 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔
Tafseer (Urdu)
{فاصبر لحكم ربك: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبر کرو۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کفار کو مہلت دینے اور ان کے خلاف اپ کی مدد کو موخر کرنے کے معاملے میں اپ اپنے رب عزوجل کے حکم کا انتظار کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاوں پر صبر کریں ۔( خازن ن تحت الایۃ: ۴۸ ۴ / ۳۰۱ مدارک القلم تحت الایۃ: ۴۸ ص۱۲۷۱ ملتقطا) {و لا تكن كصاحب الحوت: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔} اس ایت ا ور اس کے بعد والی دو ایات کے شان نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ جب احد کے میدان میں تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے مسلمانوں کے خلاف دعا کرنے کا اراد ہ فرمایا تو یہ ایات نازل ہوئیں اور ایک قول یہ ہے کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ثقیف والوں کے خلاف دعا کا ارادہ فرمایا تو یہ ایات نازل ہوئیں اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنی قوم پر جلدی عذاب نازل کرنے کے معاملے میں مچھلی والے کی طرح نہ ہونا تاکہ کہیں ان کی طرح اپ بھی ازمائش میں مبتلاء نہ ہو جائیں اور وہ وقت یاد کریں جب اس نے اس حال میں اپنے رب عزوجل کوپکارا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں بہت غمگین تھا۔یاد رہے کہ یہاں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔(تفسیرکبیر القلم تحت الایۃ: ۴۸ ۱۰ / ۶۱۶ خازن ن تحت الایۃ: ۴۸ ۴ / ۳۰۱ مدارک القلم تحت الایۃ: ۴۸ ص۱۲۷۱ ملتقطا)