Surah Al Qalam Ayat 49 (68:49)
The Pen · Juz 29 · Makki
لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔
Tafseer (Urdu)
{لو لا ان تدركه نعمة من ربه: اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے رب عزوجل کی رحمت ان کی دستگیری نہ کرتی اور اللہ تعالی ان کے عذر اور دعا کو قبول فرما کر ان پر انعام نہ فرماتا تو وہ ضرور ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے چٹیل میدان میں پھینک دیئے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالی نے ان پر رحمت فرمائی اور وہ بغیر ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے رب عزوجل کی رحمت ان کی دستگیری نہ فرماتی تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے پھر وہ ضرور ملامت کئے ہوئے میدان حشر میں پھینک دیئے جاتے۔( مدارک القلم تحت الایۃ: ۴۹ ص۱۲۷۱ تفسیر کبیر القلم تحت الایۃ: ۴۹ ۱۰ / ۶۱۷ ملتقطا) {فاجتبىه ربه: تو اسے اس کے رب نے چن لیا۔} یعنی حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے دعا کرنے اور اپنا عذر پیش کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی نے انہیں چن لیا اور ان کی نیکی کی صفات کو مزید ترقی دی اور انہیں ہر ایسا کام کرنے سے محفوظ کر دیا جسے چھوڑ دینابہتر ہو۔( مدارک القلم تحت الایۃ: ۵۰ ص۱۲۷۱ روح البیان ن تحت الایۃ: ۵۰ ۱۰ / ۱۲۶-۱۲۷ ملتقطا)