Surah Al Haqqah Ayat 11 (69:11)
The Reality · Juz 29 · Makki
اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھاتوہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک جب پانی نے سر اٹھایا تھاہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا۔
Tafseer (Urdu)
{انا لما طغا المآء: بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے کفر اور گناہوں پر قائم رہنے اور قیامت کے احوال کے ساتھ ساتھ دیگر جو احکام حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف وحی کئے جاتے تھے ان میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے کی وجہ سے طوفان نوح کے پانی نے سر اٹھایا اور وہ درختوں عمارتوں پہاڑوں اور ہر چیز سے بلند ہوگیا تھا تو اے لوگو! ہم نے تمہیں ا س وقت حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی کشتی میں سوار کیا جب کہ تم اپنے آباء کی پشتوں میں تھے تاکہ ہم مومنین کو نجات دینے اور کافروں کے ہلاک فرمانے کو تمہارے لیے یادگار بنا دیں کہ یہ واقعہ لوگوں کے لئے عبرت و نصیحت کا سبب ہو اور اللہ تعالی کی قدرت و حکمت کے کمالاس کے قہر کی قوت اور رحمت کی وسعت کی دلیل ہو اور سن کر یاد رکھنے والے لوگ اس واقعہ کی کام کی باتوں کو یاد رکھیں تاکہ ان سے نفع اٹھا سکیں ۔ یاد رہے کہ یہاں اباء سے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے تین بیٹے سامحام اور یافث مراد ہیں اور سابقہ امتوں کے واقعات بیان کرنے اور ان پر انے والے عذابات کا ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ا س امت کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کرنے میں ان لوگوں کی پیروی کرنے سے ڈریں ۔( ابو سعود الحاقۃ تحت الایۃ:۱۱-۱۲ ۵ / ۷۶۱ قرطبی الحاقۃ تحت الایۃ: ۱۱-۱۲ ۹ / ۱۹۵ الجزء الثامن عشر جلالین مع صاوی الحاقۃ تحت الایۃ: ۱۱-۱۲ ۶ / ۲۲۲۶-۲۲۲۷ ملتقطا)