Surah Al Ma'arij Ayat 27 (70:27)
The Ascending Stairways · Juz 29 · Makki
وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈر رہے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈر رہے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ و الذین هم من عذاب ربهم مشفقون: اور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈر رہے ہیں ۔} اس ایت میں چوتھا وصف بیان کیاگیا کہ (ان لوگوں میں حرص اور بے صبری نہیں پائی جاتی) جو فرض عبادات کے علاوہ بھی نیک اعمال بکثرت کرنے کے باوجود اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اللہ تعالی کے عذاب سے ڈر رہے ہیں کہ نجانے ان کے وہ اعمال قبول ہوتے بھی ہیں یا نہیں ۔( تفسیر کبیر المعارج تحت الایۃ : ۲۷ ۱۰ / ۶۴۵ ابو سعود المعارج تحت الایۃ : ۲۷ ۵ / ۷۶۸ روح البیان المعارج تحت الایۃ: ۲۷ ۱۰ / ۱۶۵ ملتقطا) بکثرت نیک اعمال کرنے کے باوجود اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے رہنے کی ترغیب: اس ایت سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالی کے نیک بندے گناہوں سے ہر دم بچتے رہنے اورکثرت کے ساتھ نیک اعمال کرنے کے باوجود اللہ تعالی کے عذاب کا خوف اپنے دلوں میں رکھتے تھے اور انہیں یہ اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں ان کے اعمال رد ہی نہ کر دئیے جائیں ۔ایک اور مقام پرایمان والوں کا ایک وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ ’’ و الذین یؤتون ما اتوا و قلوبهم وجلة انهم الى ربهم رجعون‘‘( مومنون:۶۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ جنہوں نے جو کچھ دیا وہ اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ یہاں ہم چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے اقوال ذکر کرتے ہیں جنہیں پڑھ کرہر مسلمان کو غور کرلینا چاہئے کہ وہ لوگ جو قطعی جنتی تھے ہر وقت نیک اعمال میں مصروف رہتے تھے اور گناہوں سے بچنے کی مقدور بھر کوشش کرتے تھے ا س کے باوجود اللہ تعالی کے خوف سے ان کا کیا حال تھا چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک بارپرندے کو دیکھ کر فرمایا:’’ اے پرندے! کاش ! میں تمہاری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے:میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں ایک مینڈھا ہوتا جسے میرے اہل خانہ اپنے مہمانوں کے لیے ذبح کر دیتے ۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ ’’کاش! میں ایک درخت ہوتا جس کو کاٹ دیا جاتا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے:’’ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھے وفات کے بعد اٹھایا نہ جائے۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہما فرمایا کرتے: ’’کاش! ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرمایا کرتیں : ’’کاش! میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے:کاش! میں راکھ ہوتا۔( قوت القلوب الفصل الثانی والثلاثون شرح مقام الخوف ووصف الخائفین۔۔۔ الخ۱ / ۴۵۹-۴۶۰) اللہ تعالی ہمیں اپنے عذاب سے ڈرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔