Surah Al Ma'arij Ayat 28 (70:28)
The Ascending Stairways · Juz 29 · Makki
اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ ان عذاب ربهم غیر مامون: بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔} امام عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’ اس کا معنی یہ ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی نیک پارسا اور عبادت و اطاعت کی کثرت کرنے والا ہو لیکن اسے اللہ تعالی کے عذاب سے بے خوف نہیں ہونا چاہئے۔( مدارک المعارج تحت الایۃ: ۲۸ ص۱۲۸۰) اور علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ فرض عبادات اسی طرح ادا کرتا رہے جس طرح ادا کرنی چاہئیں اور تمام ممنوعات سے اسی طرح بچتا رہے جیسا بچنے کا حق ہے بلکہ کبھی دونوں طرف سے ا س سے خطا واقع ہو جاتی ہے لہذا اسے چاہئے کہ وہ خوف اور امید کے درمیان رہے۔(خازن المعارج تحت الایۃ: ۲۸ ۴ / ۳۱۰) اللہ تعالی سے خوف اور امید کیسی رکھنی چاہئے اللہ تعالی سے کیسا خوف اور کیسی امید رکھنی چاہئے اس کا اندازہ درج ذیل دو واقعات سے لگایاجا سکتا ہے چنانچہ (1)…حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ’’اگر اسمان سے کوئی منادی یہ اواز دے کہ اے لوگو ایک شخص کے علاوہ تم سب جنت میں داخل ہو جاو گے تو میں اس بات سے ڈروں گا کہ کہیں وہ ایک شخص میں ہی نہ ہوں اور اگر منادی یہ اعلان کرے کہ اے لوگو!ایک شخص کے علاوہ تم سب جہنم میں داخل ہو جاو گے تو میں یہ امید کروں گا کہ وہ ایک شخص میں ہی ہوں ۔( حلیۃ الاولیاء ذکر الصحابۃ من المہاجرین ۲-عمر بن الخطاب۱ / ۸۹ الحدیث: ۱۴۲) (2)…حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے ایک مرتبہ اپنے صاحبزادے سے فرمایا کہ اے میرے بیٹے ! اللہ تعالی سے ایسا خوف رکھو کہ تمہیں گمان ہونے لگے کہ اگر تم تمام زمین والوں کی نیکیاں اس کی بارگاہ میں پیش کرو تو وہ انہیں قبول نہ کرے اور اللہ تعالی سے ایسی امید رکھو کہ تم سمجھو کہ اگر سب زمین والوں کی برائیاں لے کر اس کی بارگاہ میں جاوگے تو بھی تمہیں بخش دے گا۔( احیاء علوم الدین کتاب الخوف والرجاء بیان ان الافضل ہو غلبۃ الخوف۔۔۔ الخ ۴ / ۲۰۲)