Surah Al Anfal Ayat 70 (8:70)
The Spoils of War · Juz 10 · Madani
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤىۙ-اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 70
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے نبی !جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ،اگر اللہ تمہارے دل میں بھلائی دیکھے گا تو جو مال تم سے لیا گیااس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے غیب کی خبریں بتانے والے جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں بھلائی جانی تو جو تم سے لیا گیا اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{یایها النبی:اے نبی۔} شان نزول: یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چچا ہیں۔یہ کفار قریش کے ان دس سرداروں میں سے تھے جنہوں نے جنگ بدر میں لشکر کفار کے کھانے کی ذمہ داری لی تھی اور یہ اس خرچ کے لئے بیس اوقیہ سونا ساتھ لے کر چلے تھے لیکن ان کے ذمے جس دن کھلانا تجویز ہوا تھا خاص اسی روز جنگ کا واقعہ پیش آیا اور قتال میں کھانے کھلانے کی فرصت ومہلت نہ ملی تو یہ بیس اوقیہ سونا ان کے پاس بچ رہا جب وہ گرفتار ہوئے اور یہ سونا ان سے لے لیا گیا تو انہوں نے درخواست کی کہ یہ سونا ان کے فدیہ میں شمار کرلیا جائے مگر رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انکار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو چیز ہماری مخالفت میں صرف کرنے کے لئے لائے تھے وہ نہ چھوڑی جائے گی اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ پر ان کے دونوں بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کے فدیئے کا بار بھی ڈالا گیا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا :یا محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) تم مجھے اس حال میں چھوڑو گے کہ میں باقی عمر قریش سے مانگ مانگ کر بسر کیا کروں تو حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ سونا کہاں ہے جس کو تمہارے مکہ مکرمہ سے چلتے وقت تمہاری بیوی ام الفضل نے دفن کیا تھا اور تم ان سے کہہ کر آئے ہو کہ خبر نہیں ہے مجھے کیا حادثہ پیش آئے اگر میں جنگ میں کام آجائوں تو یہ تیرا ہے اور عبداللہ اور عبیداللہ کا اور فضل اور قثم کا (سب ان کے بیٹے تھے) حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب عزوجل نے خبردار کیا ہے ۔اس پر حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ سچے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میرے اس راز پراللہ عزوجل کے سوا کوئی مطلع نہ تھا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بھتیجوں عقیل و نوفل کو حکم دیا وہ بھی اسلام لائے۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۷۰ ۲ / ۲۱۱) {یؤتكم خیرا مما اخذ منكم:جو (مال) تم سے لیا گیااس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا۔} جب رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس بحرین کا مال آیا جس کی مقدار اسی ہزار تھی تو حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز ظہر کے لئے وضو کیا اور نماز سے پہلے ہی کل مال تقسیم کردیا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ اس میں سے لے لو تو جتنا ان سے اٹھ سکا اتنا انہوں نے لے لیا۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ اس سے بہتر ہے کہ جو اللہ عزوجل نے مجھ سے لیا اور میں اس کی مغفرت کی امید رکھتا ہوں۔ اپنے مال و دولت کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے مجھے بیس اوقیہ سونے کے بدلے بیس غلام عطا کئے وہ سب کے سب تاجر تھے اور بہت سارا مال کما کر دیتے تھے ان میں سے جو غلام سب سے کم کما کر دیتا تھا اس کی مقدار بیس ہزار درہم تھی۔( مدارک الانفال تحت الایۃ: ۷۰ ص۴۲۱ بغوی الانفال تحت الایۃ: ۷۰ ۲ / ۲۲۱ ملتقطا)